چنئی، 30؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی) ایم کے اسٹالن نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ریاست میں ان کی حکومت تشکیل دی گئی تو وہ نہ تو شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے اورنہ ہی زرعی قانون کی اجازت دیں گے-
انہوں نے کہاہے کہ لوک سبھا میں سی اے اے اور زرعی قوانین صرف اے این اے ڈی ایم کے اور پی ایم کے کی وجہ سے ہی منظور ہوئے ہیں -اسٹالن نے یہ بات تروپاتور میں ایک ریلی میں کہی- انہوں نے کہا ہے کہ راجیہ سبھا میں 125/ ارکان پارلیمنٹ نے سی اے اے کی حمایت کی- کانگریس اور ڈی ایم کے سمیت 105 ممبران پارلیمنٹ اس بل کے خلاف تھے-ان کی وجہ سے ہی اقلیتوں کو بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے- اسٹالن نے کہا کہ لوک سبھا میں سی اے اے کی حمایت کرنے کے بعد اب اے آئی اے ڈی ایم کے نے اپنے منشور میں وعدہ کیا ہے کہ وہ اس قانون کو واپس لینے کیلئے بی جے پی حکومت پر دباؤ ڈالے گی- اس سے پارٹی کی نیت ظاہر ہوتی ہے - اسٹالن نے یہ بھی کہاہے کہ منشور میں اے اے اے ڈی ایم کے نے ریاست میں تینوں زرعی قوانین کے نفاذ کے بارے میں بات کی ہے- یہ قوانین کسانوں کی بربادی کیلئے ہیں -
انہوں نے کہا ہے کہ پنجاب، کیرلا اور مغربی بنگال نے ان تینوں زرعی قوانین کے خلاف ایک قرار داد منظور کی- کیا ای پلانی سوامی (تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ) نے یہ کیا؟ اگر ہماری حکومت بنتی ہے توہم پہلے ان زرعی قوانین کے خلاف تجویزپیش کریں گے-یہ ہماراوعدہ ہے-